ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / شہریت ترمیمی قانون ہندو ستانی شہریوں کے بیچ نفرت اور عناد کا بیج بونے والا:مولانا عرفی قاسمی

شہریت ترمیمی قانون ہندو ستانی شہریوں کے بیچ نفرت اور عناد کا بیج بونے والا:مولانا عرفی قاسمی

Mon, 16 Dec 2019 20:22:56    S.O. News Service

نئی دہلی،16/دسمبر(آئی این ایس انڈیا)شہریت ترمیمی بل 2019 اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی مذہب پر مبنی پالیسی کی پر زور مذمت کرتے ہوئے آل انڈیا تنظیم علماء حق کے قومی صدر مولانا محمد اعجاز عرفی قاسمی نے الزام لگایا یہ قانون نہ صرف ہندو ستانی شہریوں کے بیچ نفرت اور عناد کا بیج بونے والا ہے بلکہ اس سے مذہب کی بنیاد پر ایک اور تقسیم کی بنیاد بھی پڑتی نظر آتی ہے۔انہوں نے آج یہاں جاری بیان میں اس بل کے عواقب و عوامل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اصل میں بی جے پی مہنگائی، بے روزگاری، بھکمری، معاشی زوال اور دوسرے بنیادی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے طلاق ثلاثہ، دفعہ ۰۷۳ کا خاتمہ اور شہریت ترمیمی وغیرہ متنازع بل کو ایوان حکومت میں منظور کرنے کے بعد اس کو ملک میں نافذ کررہی ہے، تاکہ اس ملک کے سادہ لوح عوام غیر ضروری مسائل کے گرداب میں الجھے رہیں اور حکمراں طبقہ سے اپنے بنیادی دستوری حقوق کے بارے میں سوال نہ کرسکیں۔ انھوں نے کہاکہ اس قانون کے خلاف کیا ہندو اور کیا مسلم،شمال سے لے جنوب تک پورا ملک سراپا احتجاج بنا ہوا ہے، بلا اختلاف مذہب ملک کے تمام دانش وران، ادبا، قلم کار اور مفکرین اس قانون کو آئین و دستور کی روح کے منافی قرار دے رہے ہیں، مگر مرکزی حکومت ان کی جمہوری آواز کو دبانے کے لیے پولس فورس کابے دریغ استعمال کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ جامعہ، علی گڑھ، ڈی یو اور جے این یو جیسی مشہور یونی ورسٹیوں کے طلبہ اس تحریک میں پیش پیش ہیں۔ مولانا قاسمی نے الزام لگایا کہ دہلی پولیس نے امت شاہ کے اشارے پر جامعہ کی لائبریری اور مسجد میں گھس کر اورلڑکیوں کے ہاسٹل میں داخل ہوکر طلبہ و طالبات کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا بریرت اور وحشتناک واقعے کو مہذب سماج میں برداشت نہیں کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے دعویٰ کیاہے کہ اسی طرح علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخل ہوکرطلبہ کو تشدد کانشانہ بنایا گیا ہے یہ منظم منصوبہ کے تحت کیا گیا ہے تاکہ کوئی احتجاج نہ کرسکے۔ دونوں جگہوں سے سیکڑوں طلبہ زخمی ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہندستان ایک سیکولر اور جمہوری ملک ہے، یہ ملک ہندو مسلم،سکھ عیسائی سبھی کا وطن ہے، اس ملک کی جنگ آزادی میں سبھی طبقات کا لہو شامل ہے، مگر حکومت ایک مخصوص طبقہ کو ہراساں کرنے، انھیں دوسرے درجے کا شہری بنانے اور ان کا ناطقہ بند کرنے کے لیے یہ ظالمانہ اور جابرانہ قانون ملک میں نافذ کرنے جارہی ہے۔


Share: